12

پاکستان بھارت سے تجارت کا خواہش مند ہے مگر مودی حکومت میں یہ ممکن نہیں، وفاقی وزیر

  کراچی: وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تجارت کا خواہش تو ہے مگر مودی حکومت میں یہ ممکن نہیں ہے۔

ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دفتر میں چیف ایگزیکٹیو ٹی ڈیپ زبیر موتی والا کے ہمراہ صحافیوں سے غیررسمی بات چیت کے دوران وزیرتجارت  نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے بارٹر ٹریڈ فریم ورک منظور کرلیا ہے۔ جس کی مدد سے ڈالر بحران پر قابو پانے اور معیشت کو سہارا اور تجارتی خسارے پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔

سید نوید قمر نے کہا کہ بینکاری چینل کا نہ ہونا فریم ورک کا سبب ہے۔  اس سسٹم کے تحت افغانستان، ایران، وسط ایشیائی و افریقی ممالک اور چین کےساتھ اشیاء کے بدلے اشیاء کی تجارت ہوسکے گی۔ وزیرتجارت نے بتایا کہ پاکستان بارٹر سسٹم کے تحت اشیاء کے بدلے مشینری حاصل کرنے کا خواہشمند ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نوید قمر نے کہا کہ پاکستان کو یورپی یونین جی ایس پی پلس پروگرام میں دو سال کی توسیع مل گئی ہے، یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام کو ٹیکس فری کرنے کی کوشش کررہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے جی سی سی ممالک سے فری ٹریڈ پالیسی پر مذاکرات جاری ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیر تجارت نے کہا کہ  پاکستان بھارت سے تجارت کا خواہشمند ہے مگر مودی حکومت  میں پاک بھارت تجارت کا پروان چڑھنا ممکن نہیں۔ ۔

وزیرتجارت نے مزید  کہا کہ پاکستان کو چین اور امریکا دونوں کی ضرورت ہے، سیاسی عدم استحکام سے پاکستان کو معاشی چیلینجز کا سامنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں  سیدنویدقمر نے بتایا کہ کسانوں کو کپاس کی کاشت کی جانب راغب کرنے کے لیے ترغیبات دیں گے۔ کاشتکاروں کے تحفظ کے لیے کپاس کی قیمت 8500روپے کردی گئی ہے۔فصل کی اچھی قیمت کے توقع پر کپاس کی پیداوار بڑھ  سکتی ہے۔

وزیرتجارت کا کہنا تھا کہ کپاس کے ہائبرڈ بیج پر غیرملکی کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں