8

پارلیمنٹ سے باہر ہونے والے شخص کا کیس عدالت کیوں سنے، سپریم کورٹ

اسلام آباد میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت۔  ایس سی کی ویب سائٹ۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت۔ ایس سی کی ویب سائٹ۔

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے منگل کو استفسار کیا کہ جب درخواست گزار قانون سازی کے دوران موجود نہیں تھے تو وہ اس عمل کو کیسے چیلنج کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارلیمنٹ کو چاہئے ۔ نیب ترامیم کا معاملہ جلد حل کریں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پی ٹی آئی کے وکیل سے کہا کہ عمران خان نہ تو پارلیمنٹ کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی اس کے فیصلوں کو مانتے ہیں تو پھر عدالت ایسے شخص کے کیس کا فیصلہ کیوں کرے جو پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم کی درخواست پر سماعت کی۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان، قومی احتساب آرڈیننس (NAO) 1999 میں مخلوط حکومت کی طرف سے کی گئی ترامیم کو چیلنج کرنا۔

وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اینٹی گرافٹ باڈی (نیب) کو استعمال کیا گیا۔ سیاسی انجینئرنگ کے لیے۔ وکیل نے کہا کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نیب قانون میں کی گئی ترامیم غیر آئینی ہیں یا نہیں۔

نیب ترامیم سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو بھی فائدہ ہوا لیکن کسی نے بھی اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیب کو پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے کس طرح استعمال کیا گیا،‘‘ وکیل نے کہا۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خزانہ نے ایک ادارے کے چیف ایگزیکٹیو کے خلاف نیب کا مقدمہ دائر کیا، عدالت نے ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہ بننے اور کئی سال جیل میں رہنے کے بعد بری کردیا۔

تاہم چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے کہا کہ وہ نیب کے طرز عمل پر مقدمہ درج کریں، عدالت کارروائی کرے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کا قانونی نظام بہتر کرنا چاہتے ہیں، نااہل تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز نے نقصان پہنچایا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم آزاد تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹر چاہتے ہیں۔

سماعت کے دوران پی ٹی آئی کی پارلیمنٹ میں واپسی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جب چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اخبارات میں خبریں آئی ہیں کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں واپس جارہی ہے۔ اگر پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں واپس آتی ہے تو کیا حکومت اس سے ہم آہنگی کرے گی؟ اپنے مؤکل سے پوچھیں کہ کیا ہمیں معاملہ پارلیمنٹ کو واپس بھیجنا چاہیے؟ چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کے وکیل سے استفسار کیا۔

تاہم مخدوم علی خان نے کہا کہ وہ حکومت کی ہدایات کے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتے، انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی نظام میں سارا طریقہ کار درج ہے۔ وکیل نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی چاہے تو نیب ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کر سکتی ہے۔

بینچ کے ایک اور رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اکثریت کے بجائے اتفاق رائے سے قانون سازی کی جائے، نیب ترامیم کے معاملے پر قومی مفاد کو مقدم بنایا جائے۔

جج نے ریمارکس دیئے کہ امید ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں اتفاق رائے سے قانون سازی کریں گے۔

مخدوم علی خان نے عرض کیا کہ سیاست کے بغیر جمہوریت کا کوئی تصور نہیں، انہوں نے مزید کہا کہ قومی حکومت کا تصور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے موجود تھا۔ امکان ہے کہ پارلیمنٹ میں واپسی کے بعد پی ٹی آئی یہ موقف اختیار کرے گی کہ اس کی حکومت کے دوران نیب میں کی گئی ترامیم درست تھیں۔

‘لیکن ہم چاہتے ہیں کہ زیرِ سماعت معاملہ جلد از جلد ختم ہو،’ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے بار بار آبزرویشنز دی ہیں کہ نیب ترمیم کا معاملہ پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے۔

بنچ کے ایک اور رکن جسٹس سید منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ عدالت ایسے شخص کا کیس کیوں سنے جو پارلیمنٹ سے باہر ہو۔ جسٹس منصور علی شاہ نے پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ عمران خان نہ تو پارلیمنٹ کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی اس کے فیصلوں کو مانتے ہیں تو پھر عدالت ایسے شخص کے کیس کا فیصلہ کیوں کرے جو پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

فاضل جج نے مزید کہا کہ کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ پی ٹی آئی نیب ترامیم کا بل پارلیمنٹ میں لے جائے۔ جج نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ کے فلور پر اس پر بحث کے بعد کچھ اچھی چیزیں سامنے آسکتی ہیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جب درخواست گزار قانون سازی کے عمل کے دوران موجود نہیں تھے تو وہ اس عمل کو کیسے چیلنج کرسکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ٹھوس حقائق روز بروز سامنے آرہے ہیں کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد مقدمات واپس لیے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب تک تقریباً 386 کیسز واپس لیے جا چکے ہیں۔

تاہم خواجہ حارث نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ میں واپسی یا نہ آنا سیاسی فیصلہ ہے۔ تاہم جسٹس منصور علی شاہ نے فاضل وکیل سے کہا کہ اگر پارلیمنٹ نے مسئلہ حل نہیں کیا تو عمران خان عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا واپس بھیجے گئے کیسز دوسرے فورمز پر اٹھائے جا سکتے ہیں؟

مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ اسے دوسرے فورمز پر اٹھایا جا سکتا ہے۔ وکیل نے ایک موقع پر عدالت کو بتایا کہ نیب کو رضاکارانہ واپسی کے ذریعے ادا کی گئی رقم ابھی تک قومی خزانے میں جمع نہیں کروائی گئی۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ مذکورہ رقم غائب ہونا اصل مسئلہ ہے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت آج (بدھ) تک ملتوی کر دی۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں