13

دم سے آواز پیدا کرنے والے سانپ کے جینوم سے زہر کے علاج میں پیشرفت

ڈائمنڈ بیک ریٹل اسنیک پر تحقیق سے ایک اہم پروٹین ہاتھ لگا ہے جو کئی طرح کے زہر کا تریاق بن سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

ڈائمنڈ بیک ریٹل اسنیک پر تحقیق سے ایک اہم پروٹین ہاتھ لگا ہے جو کئی طرح کے زہر کا تریاق بن سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

کیلیفورنیا: دنیا بھر میں سانپ کے کاٹنے سے 120,000 افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور محتاط اندازے کے مطابق چارلاکھ سے زائد افراد کسی نہ کسی معذوری کے شکار ہوجاتے ہیں۔ صرف امریکا میں ہی 8000 افراد کو سانپ کاٹ جاتے ہیں۔

ان واقعات میں ریٹل اسنیک یا کھڑکھڑے سانپ بھی شامل ہیں جن کا زہر ہمہ گیر اور بہت خطرناک ہوتا ہے۔ ایسے سانپوں کی دم سے جھنجھنے کی سی آواز آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ریٹل اسنیک اپنی اس خاصیت کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔

اب سانپوں کے زہر کے بہتر تریاق بنانے کی راہ میں جامعہ میری لینڈ کے سائنسدانوں نے اسی سانپ کی ایک قسم ویسٹرن ڈائمنڈ بیک ریٹل اسنیک کا جینیاتی مطالعہ کیا ہے۔ اس طرح سانپ کا مکمل جینوم سامنے آیا اور معلوم ہوا کہ ان میں کئی قسم کے زہر پائے جاتے ہیں۔ اسی میں زہر کا تریاق دریافت ہوا ہے جو ایک پروٹین کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اسے ایف ای ٹی یو اے تھری کا نام دیا گیا ہے جو کئی اقسام کے زہر کو بے اثر بھی کرسکتے ہیں۔

اندازہ ہے کہ یہ پروٹین سانپوں کے 20 مختلف اقسام کے زہر کو یہ بے اثر کرسکتا ہے اور یوں ایک نیا تریاق ہمارے سامنے آیا ہے۔ جب اس پروٹین کو مختلف زہر پر آزمایا تو اس کی تصدیق بھی ہوگئی۔ تاہم انسانی آزمائش اور اینٹی وینم (زہرربا) انجیکشن کی منزل ابھی دور ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں